آج کی دنیامیں" ماڈرن ورلڈ"کے نعرے کو اشو بنا کر بےدین کرنے کی محنت کی جارہی ہے ۔ لوگ حقیقت سے نا آشنا رنگ برنگے نعروں اور لفظوں کے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں ۔ اگر کسی سے کچھ پوچھا جائے تو جدیدیت ماڈرنیت ،ترقی کی دوڑ وغیرہ کے لفظ گن دیتا ہے ،"دنیا چاند پرپہنچ گئی "کاراگ سنا کر داڑھی ،پگڑی ،سنت کو کوسا جاتا ہے ، اور ان چیزوں کو اپنے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کاقصور وار ثابت کیاجاتاہے۔
اس مقالےمیں بندہ نے کائنات کی ابتداء ،انسان کی ابتداء ،پتھر کے دور کے انسان سے لیکرایٹمی پاور حاصل کرنے تک کی تدریج کاجائزہ لیاہے اوراس بات کو تلاش کرنے کی کو شش کی ہے کہ آخر کونسی ترقی کی راہ میں اسلام نے رکاوٹ ڈالی یااس کے بر عکس اسلام نے ترقی کا راستہ دکھایا ؟اور ماڈرن ازم یا جدت پسندی کاکیا مطلب ہے۔یہ نعرے کہاں سے آئے ،ان کی کیاحقیقت ہے۔
دنیامیں عروج وزوال قوموں پر آیاہی کر تاہے اگر آج مغرب کو کچھ دور کے لئے عروج حاصل ہے تو اس کایہ مطلب نہیں کہ مغرب اور مغربی ذہنیت ہمیشہ عروج پر رہی یاآئندہ ہمیشہ عروج پررہے گی ۔ہزار سال تک ذلت کی زندگی گذار کر انہیں پڑھنے لکھنے کاخیال بھی مسلمانوں سے ملا،مغرب کی تر قی کے اسباب پر اگر آپ غور کریں تو آپ پر یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ ان کو ترقی اس فحاشی عریانیت یالادینی کے سبب نہیں بلکہ علوم پر محنت کر نے کے سبب ملی ہے ،فحاشی ،عریانی اور لادینی تو دوبارہ ان کی کشتی کو ڈبونے والے ہیں ،اور انکو دوبارہ زوال کے راستے پر ڈالنے والے ہیں ۔ہم بیوقوفی سے اسبابِ زوال کو اسباب ترقی اور ذہنی وسعت سمجھ کراس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
مولاناابوالحسن علی ندوی مرحوم نے کیا ہی خوب تجزیہ کیاہے جسکا خلاصہ اور لب ِ لباب یہ ہےکہ
یورپی تہذیب جب ہم تک پہنچی توایک مجموعہ کی شکل میں تھی جس میں کچھ باتیں تو ان کے سالہا سال کے تجربے کانچوڑتھیں تو کئی باتیں ان کی مذہبی توہمات تھیں کچھ باتیں وسیع وعمیق مطالعے کالب ِلباب تھیں تو کچھ ان کے رسم ورواج ۔
اب ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کاحقیقت پسندانہ تجزیہ کیاجاتا،انکے تجربات اور مطالعے سے فائدہ اٹھایاجاتااور انکے توہمات اور رسم ورواج کا مطالعہ کیاجاتا ،اگر کسی بات میں دنیاوآخرت کاکو ئی فائدہ ہوتاتو اسے لے لیاجاتااور بقیہ کو چھو ڑ دیاجاتا،
مگر اس کے بر عکس ہمارے یہاں دو اور رویوں نے لے لی ایک تو وہ جنہوں نے انگریز کی طرف منسو ب ہر بات کو ترک کردیااور اسے قابل نفرت گردانا۔
جبکہ دوسرابالکل غلامانہ ذہنیت والارویہ کہ انگریز کی طرف منسوب ہر چیز کو ترقی کی کلید سمجھ لیا۔یہ تو ہوگیا مگر ایک معتد ل رویہ کالمعدوم ہوگیا۔
بحیثیت مسلمان ہمارایہ عقیدہ ہے کہ ہماری دنیاوآخرت کی کامیابی آپ ﷺ کے طریقوں میں ہے اور آپ کے طریقوں سے ہٹ کرکسی چیز میں ہماری کامیابی نہیں۔اگر اپنی صبح سے لیکر شام تک کی زندگی حضورﷺ کے احکامات کے مطابق ہوتو یہ ہمیں ترقی میں مدد دے گی ۔
حدیث پاک کامفہوم ہے کہ حکمت کی بات مومن کاگمشدہ سرمایہ ہے جہاں وہ اسے پالے لے لیتاہے مسلمانوں نے ۱۲۰۰ سال تک تمام علوم میں پوری دنیاکی قیادت کی ہے لیکن جب اللہ کے احکامات اور نبی ﷺکے طریقوں کوہم نے چھوڑا تو ہمارازوال شروع ہوگیا۔اللہ تعالی نے مسلمانوں سے دنیاکی بادشاہت اورخلافت کاوعدہ کیاہے مگر دوشرطوں کے ساتھ ایک ایمان اور دوسراعمل صالح والی زندگی ۔
اگر آج مسلمان پورے دین پر عمل شروع کردے تو آج ہی سے دنیاوآخرت کی کامیابیاں اس کے قدم چومنا شروع کردیں گی ۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی